ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دلتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی لوک سبھا میں بھی گونج؛ اپوزیشن نے حکومت پر چشم پوشی سے کام لینے کا لگایا الزام

دلتوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی لوک سبھا میں بھی گونج؛ اپوزیشن نے حکومت پر چشم پوشی سے کام لینے کا لگایا الزام

Thu, 11 Aug 2016 20:30:40    S.O. News Service

بی جے پی اپنا نظریہ واضح کرے: اپوزیشن کا پرزور مطالبہ

نئی دہلی، 11؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )ملک کے مختلف حصوں میں دلتوں پر مظالم پر مرکزی حکومت کی جانب سے ٹھوس کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن کانگریس، بائیں محاذ اور دیگر جماعتوں نے کہا کہ پسماندہ قبائل، انتہائی پسماندہ ذات لئے بجٹ اختصاص کمی کی گئی ہے اور ملک کی ایک چوتھائی آبادی والے ان طبقوں کے لوگ آج خوف کے ماحول میں جی رہے ہیں۔بی جے پی نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف اعداد و شمار کا ذکر کرنے سے دلتوں کے ظلم و ستم کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ آزادی کے بعد سے کانگریسی اور غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں دلتوں پر بھیانک مظالم کے معاملے بڑھے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر دلتوں کے ظلم و ستم کے تئیں نظریات کو ختم کریں۔لوک سبھا میں دلتوں پر مظالم کے بارے میں پی کرواکر اور شنکر پرساد دتہ کی تجویز پر دفعہ 193کے تحت بحث کا آغاز کرتے ہوئے سی پی آئی ایم کے پی کے بیجو نے کہا کہ ہندوستان آج دنیا میں سب سے تیز رفتار سے آگے بڑھتی معیشت ہے لیکن دلتوں پر ظلم کے واقعات بدستور جاری ہیں۔قومی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہر 18منٹ میں دلتوں کے خلاف مظالم کے معاملے آتے ہیں۔دلتوں کا قتل، دلت خواتین کی عصمت دری کے معاملے بھی مسلسل آتے ہیں۔انہوں نے اس ضمن میں گجرات کے انا میں دلتوں پر حملہ، اتر پردیش اور بہار میں دلت کو ہراساں کئے جانے کے واقعات کا ذکر کیا۔بیجو نے کہا کہ 33فیصد تھانوں میں دلت نہیں جا پاتے ہیں، کافی اسکولوں میں دلت طالب علموں کوالگ بیٹھنا پڑتا ہے، 21فیصد دلت بچے کم وزن کے ہیں اور بڑی تعداد میں غذائی قلت کے شکار ہیں،پھر بھی ان کو نظر انداز کرناسنجیدہ موضوع ہے۔
سی پی ایم رکن نے کہا کہ آئین میں دلتوں کی حفاظت اور ان کے حقوق کا انتظام کیا گیا ہے لیکن گؤرکشا اور دیگر مسائل پر ان کے خلاف مظالم جاری ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اس موضوع پر حال ہی میں کہا کہ دلتوں کو نہیں مارو، مارنا ہے تو مجھے گولی مار دو۔ساتھ ہی وزیر اعظم نے گؤرکشا سے وابستہ لوگوں میں سماج دشمن عناصر کے ہونے کا ذکر کیا لیکن ٹھوس کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟۔
بیجو نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس ایسی معلومات ہے لیکن پھر بھی دلتوں کی حفاظت کے لئے ٹھوس اقدامات مرکزی حکومت کیوں نہیں کر رہی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا بیان نہیں بلکہ سخت کارروائی ضروری ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے ساتھ ہی موجودہ حکومت کے دوران ایس سی؍ایس ٹی کے لئے بجٹ الاٹمنٹ میں کمی کی گئی ہے۔کانگریس کے کے ایچ منیپا نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دوران ملک میں دلتوں کے خلاف مظالم کے اب تک کے سب سے زیادہ معاملات سامنے آئے ہیں اور اگر اس طرح دلتوں پر مظالم پر حکومت خاموش رہی تو 2019کے انتخابات میں کانگریس کی قیادت میں مرکز میں حکومت بننا طے ہے۔انہوں نے کہا کہ آج دلتوں پر مظالم کے معاملے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ وہ خوف کے ماحول میں جی رہے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا کہ کانگریس کے دور حکومت میں دلت بے خوف ہو کر زندگی بسر کر رہے تھے۔منیپا نے اس تناظر میں گجرات کے انا میں دلتوں پر مظالم، اڑیسہ، اتر پردیش اور بہار میں دلت ہراساں کئے جانے کے واقعات کا ذکر کیا۔اڑیسہ میں دلتوں کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس رکن نے الزام لگایا کہ اڑیسہ حکومت اس معاملے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اور وزیر داخلہ کو اس بارے میں نوٹس لینا چاہئے۔اس کی بی جے ڈی رکن بھرترہر مہتاب نے مخالفت کی اور کہا کہ قصورواروں کو نہیں بخشا جائے گا۔
بی جے پی کے ادت راج نے کہا کہ دلتوں کے ظلم و ستم کے معاملے میں وہ بی جے پی بمقابلہ کانگریس یا کانگریس بمقابلہ بی جے ڈی کے جال میں نہیں پڑنا چاہتے ہیں۔الزامات سے دلتوں کے ظلم و ستم کو کم نہیں کیا جا سکتا ہے۔اعدادوشمار کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں لیکن ہمیں مظالم کے نظریات کو توڑنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف قانون اور نظام کا سوال نہیں بلکہ سماجی سوچ کا سوال ہے اور ہمیں اس جڑ کو ختم کرنا ہوگا۔ایسے واقعات اس لئے بھی بڑھ رہے ہیں کیونکہ دلت خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں ان کی اس کوشش میں اتحادی بننا ہوگا۔ادت راج نے کہا کہ دلت ظلم و ستم کے اعداد و شمار کی بات کریں تو آزادی کے بعد سے کانگریسی اور غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں دلتوں پر بھیانک مظالم کے معاملے ہوئے ہیں۔


Share: